حکومت بہاراردو زبان کے فروغ کے تئیںسنجیدہ اور پابند عہد: ایس ایم پرویز عالم
شاد ؔایک دبستان تھے، دبستان کوایک مقالہ میں پیش نہیں کیا جاسکتا : ڈاکٹر دبیر احمد
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت شاد عظیم آبادی یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز)شاد عظیم آبادی اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، دانشور، محقق، تاریخ داں اور اعلیٰ پایہ کے نثر نگار تھے۔ انہوں نے غزل میں سادگی و سوز و گداز، رباعیات اور مرثیہ نگاری میں منفرد مقام بنایا۔ شاد نے غزل کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا، جس میں دہلی اور لکھنؤ کی شاعری کا امتزاج ملتا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے اردو غزل میں سچّے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے ساتھ ایک نئے رنگ و آہنگ کی تازگی و توانائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ان کا کلام جذبات، سادگی اور جمالیات کا حسین امتزاج ہے۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، نزد آکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد شاد عظیم آبادی یادگاری تقریب و بزم سخن میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر دبیر احمد، صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج، کولکاتانےکی۔
ڈاکٹر دبیر احمدنے بہت ہی پرمغز ،بلیغ اور عالمانہ صدارتی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ ،حکومت بہارکی کارکردگیوں کی ستائش کی اور فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کے تئیں اظہار تشکر وامتنان کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ طلبا و طالبات کو اساتذہ کرام کے سامنے مقالہ پیش کرنے کاموقع فراہم کرنا بڑاکارنامہ ہے۔ اس سے ان کوجرأت، ہمت اور حوصلہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔انہوں نے شاد عظیم آبادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شاد ایک دبستان کانام ہے۔ جب ایک دبستان کا نام شاد ہو تو پھر ان کی تمام خصوصیات کو ایک مقالے میں نہیں سمویا جا سکتا۔انہوں نے زبان کے ارتقا اور لسانیات کے حوالے سے بھی بہت ہی جامع اور مدلل گفتگو کی اور کہا کہ زبان پر بالاستیعاب گفتگو کرنے کے لئے ماہر لسانیات کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لسانیات پر گفتگو کرنا بہت مشکل امر ہے۔ لسانیات ایسا پتھر ہےجسے لوگ بہت دور سے بوسہ لیتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو وکاالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ حکومت بہار ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے فروغ اور تشہیر اور نئی نسل تک اردو کو پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نتیش کماراردو زبان کے فروغ کےلئے کافی سنجیدہ ہیں۔ اس کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت فروغ اردو کے لئے مختلف طرح کی تقریبات کا انعقاد کے ساتھ ساتھ حکومت کے کئی اہم منصوبوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ آج کی تقریب شاد عظیم آبادی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریب کے انعقاد کا مقصد محض ایک رسم ادا کرنا نہیں بلکہ اُن سنہری یادوںکو تازہ کرنا ہے جواردو ادب اور ہماری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ تقریبات دراصل اکابرین کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنی محنت، خلوص اور لگن کے ساتھ اردو ادب کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔شاد عظیم آبادی اردو ادب کےمقتدر اور با کمال شاعر ہیں۔ وہ بچپن سے ہی نہایت ذہین اور ہونہار تھے۔ بچپن سے ہی آپ کو شعر و شاعری سے شغف تھا۔شاد عظیم آبادی کی حیثیت نہ صرف یہ کہ کلاسیکی اردو شاعری میں مستند ہے، بلکہ معمارانِ دبستان عظیم آباد میں بھی ان کی حیثیت ممتاز و منفرد تسلیم کی جاتی ہے۔شاد کو نظم و نثر دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ انہوں نے تقریباً شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی اورغزل،مسدّس، رباعی، مثنوی، مرثیہ، قصیدہ میں اپنے نقوش مرتب کئے۔انہوں نے کامیاب مرثیہ نگاری بھی کی اور عام رَوِش سے علا حدہ اپنی خوبصورت شناخت بنائی۔ اس کے علاوہ شاد نے تاریخ ،تذکرہ اور سیرت نگاری میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔شاد نے عروس غزل کو تغزل، سادگی ٔ خیال، سلاست اور روانی کے علاوہ جس تہذیبی شرافت سے ہمکنار کیا،اُسے اردو شعرو سخن میں ہمیشہ بیش قیمت اضافہ تسلیم کیا جائے گا۔انہوں نے پوری اردو شاعری کو متاثراور منوّر کیا۔ بلا شبہ سر زمین بہار کو شاد کی شاعرانہ و ادبی عظمت پر ناز ہے۔شاد نے دہلی اور لکھنو کے دبستانوں سے استفادہ کرتے ہوئے عظیم آباد کے سرمایہ زبان و ادب کو جس طرح فیضیاب کیا اُسے دنیائے اردو ادب ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھے گی۔ڈائرکٹر موصوف نے فنکاروں کی پیش کش کے تحت امت سنگھ ایمی اوران کی ٹیم کے ذریعہ شاد عظیم آبادی پرغنائیت اور موسیقیت سے پُر غزل پیش کرنے کیلئے ستائش اور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے پروگرام میں کچھ رنگا رنگی ، لطف اندوزی اور کشش لانے کی غرض سے کچھ نئی چیزیں پیش کی گئیںتاکہ محبان اور قدر دان اردو لطف اندوز ہو سکیں۔مقالہ خوانی کے تحت اسماعیل حسنین نقوی، سکریٹری شاد عظیم آبادی میموریل کمیٹی، پٹنہ نے شاد ؔکی قومی شاعری پر بڑی جامع گفتگو کی۔ انہوں شاد کی شہرہ آفاق مثنوی مادرِ ہند کے آئینے میں ان کی حب الوطنی، اخوت، بھائی چارہ، قومی یک جہتی کی باتیں کیں۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی نے قومی شاعری پرگہرےنقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے اپنی جدت پسندانہ شاعری کی انوکھی روایت پیش کی ہے۔ڈاکٹر زر نگار یاسمین اسسٹنٹ پروفیسر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی ، پٹنہ نے شاد کی رباعیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی نے اپنی ضخیم دیوان اپنی یاد گار چھوڑا ہے، جس میں ان کی شاعری کے مختلف اصناف شامل ہیں ان ہی میں رباعیات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاد کی رباعیوں میں تصوف، فکر و فلسفہ او رانسانی جذبات کا خاص اظہار ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی رباعیات میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کو پیش کیا ہے۔ڈاکٹر منہاج الدین، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اردو گیا کالج، گیا جی نےشاد عظیم آبادی کے حوالے سےاردو زبان کےآغاز و ارتقا ء پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی کے مطابق ارد و خالص ہندستانی زبان ہے جس کی پیدائش اورپرورش و پرداخت ہندستان میں ہی ہوئی ہے۔ ابتدا سے ہی اردو ہندستان کی مقبول ترین زبان رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادؔ کا لسانی شعور نہ صرف پختہ بلکہ نہایت بالیدہ تھا۔ طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت پٹنہ یونیورسٹی کے محمد طلحہ خان ’’ شاد بحیثیت ناول نگار ‘‘اور ثمرین پروین نے ’’شادعظیم آبادی کی غزل گوئی کی انفرادیت‘‘ کے موضوع پرمختصر مگر جامع مقالے پیش کئے۔اس موقع پر شاد عظیم آبادی کے پرپوتے ڈاکٹر سید نثار احمد و انجینئر شکیل احمد کو گلدستہ اور شال پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی گئی۔انہوں نے شادعظیم آبادی پر تقریب منعقد کرنے کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کی ستائش کی اور شکریہ ادا کیا۔دوسرے اجلاس میں معروف شاعر و چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ،بہار مظفر ابدالی کی صدارت اور معروف افسانہ نگار فخر الدین عارفی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔ ظفر حبیبی ، کاظم رضا ،نیلانشو رنجن اور صدف اقبال نے اپنے کلام سے سامعین کو لطف اندوزکیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے’’پچھلے پہر شبِ فرقت ‘‘کے عنوان سے ایک جامع نظم خوبصورت انداز میں پیش کی۔صدر محفل مظفر ابدالی نےاپنی دوراندیشانہ ،فکر انگیز اور بالیدہ شاعری کوخوبصورت لب و لہجہ میںپیش کرکے سامعین کا دل جیت لیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر توقیر عالم، پروفیسر جاوید حیات،خورشید اکبر، مشتاق احمد نوری، شائستہ انجم نوری،پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر ریحان غنی، شائستہ پروین، سید شہباز عالم،عمران صغیر، محمد شعبان، انوار اللہ، اسحاق اثر، اکبر رضا جمشید، سلطان احمد،اسرائیل راعین ، محمد اسید پرسونوی ،محمد ابوبکر،ڈاکٹر قیصر زاہدی، ڈاکٹر ثریا جبیں،اسسٹنٹ پروفیسر عشرت صبوحی،پریم کرن،اسرار عالم سیفی،نصراللہ نستوی، وارث اسلام پوری، عرفان بیلہاروی، منیر سیفی وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت شاد عظیم آبادی یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز)شاد عظیم آبادی اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، دانشور، محقق، تاریخ داں اور اعلیٰ پایہ کے نثر نگار تھے۔ انہوں نے غزل میں سادگی و سوز و گداز، رباعیات اور مرثیہ نگاری میں منفرد مقام بنایا۔ شاد نے غزل کو ایک نیا رنگ و آہنگ دیا، جس میں دہلی اور لکھنؤ کی شاعری کا امتزاج ملتا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے اردو غزل میں سچّے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے ساتھ ایک نئے رنگ و آہنگ کی تازگی و توانائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ان کا کلام جذبات، سادگی اور جمالیات کا حسین امتزاج ہے۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، نزد آکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد شاد عظیم آبادی یادگاری تقریب و بزم سخن میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر دبیر احمد، صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج، کولکاتانےکی۔
ڈاکٹر دبیر احمدنے بہت ہی پرمغز ،بلیغ اور عالمانہ صدارتی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ ،حکومت بہارکی کارکردگیوں کی ستائش کی اور فعال ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کے تئیں اظہار تشکر وامتنان کیا۔انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ طلبا و طالبات کو اساتذہ کرام کے سامنے مقالہ پیش کرنے کاموقع فراہم کرنا بڑاکارنامہ ہے۔ اس سے ان کوجرأت، ہمت اور حوصلہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔انہوں نے شاد عظیم آبادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شاد ایک دبستان کانام ہے۔ جب ایک دبستان کا نام شاد ہو تو پھر ان کی تمام خصوصیات کو ایک مقالے میں نہیں سمویا جا سکتا۔انہوں نے زبان کے ارتقا اور لسانیات کے حوالے سے بھی بہت ہی جامع اور مدلل گفتگو کی اور کہا کہ زبان پر بالاستیعاب گفتگو کرنے کے لئے ماہر لسانیات کا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لسانیات پر گفتگو کرنا بہت مشکل امر ہے۔ لسانیات ایسا پتھر ہےجسے لوگ بہت دور سے بوسہ لیتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو وکاالہانہ استقبال کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتےہوئے کہا کہ حکومت بہار ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے فروغ اور تشہیر اور نئی نسل تک اردو کو پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نتیش کماراردو زبان کے فروغ کےلئے کافی سنجیدہ ہیں۔ اس کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت فروغ اردو کے لئے مختلف طرح کی تقریبات کا انعقاد کے ساتھ ساتھ حکومت کے کئی اہم منصوبوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ آج کی تقریب شاد عظیم آبادی کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریب کے انعقاد کا مقصد محض ایک رسم ادا کرنا نہیں بلکہ اُن سنہری یادوںکو تازہ کرنا ہے جواردو ادب اور ہماری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ تقریبات دراصل اکابرین کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنی محنت، خلوص اور لگن کے ساتھ اردو ادب کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔شاد عظیم آبادی اردو ادب کےمقتدر اور با کمال شاعر ہیں۔ وہ بچپن سے ہی نہایت ذہین اور ہونہار تھے۔ بچپن سے ہی آپ کو شعر و شاعری سے شغف تھا۔شاد عظیم آبادی کی حیثیت نہ صرف یہ کہ کلاسیکی اردو شاعری میں مستند ہے، بلکہ معمارانِ دبستان عظیم آباد میں بھی ان کی حیثیت ممتاز و منفرد تسلیم کی جاتی ہے۔شاد کو نظم و نثر دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ انہوں نے تقریباً شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی اورغزل،مسدّس، رباعی، مثنوی، مرثیہ، قصیدہ میں اپنے نقوش مرتب کئے۔انہوں نے کامیاب مرثیہ نگاری بھی کی اور عام رَوِش سے علا حدہ اپنی خوبصورت شناخت بنائی۔ اس کے علاوہ شاد نے تاریخ ،تذکرہ اور سیرت نگاری میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔شاد نے عروس غزل کو تغزل، سادگی ٔ خیال، سلاست اور روانی کے علاوہ جس تہذیبی شرافت سے ہمکنار کیا،اُسے اردو شعرو سخن میں ہمیشہ بیش قیمت اضافہ تسلیم کیا جائے گا۔انہوں نے پوری اردو شاعری کو متاثراور منوّر کیا۔ بلا شبہ سر زمین بہار کو شاد کی شاعرانہ و ادبی عظمت پر ناز ہے۔شاد نے دہلی اور لکھنو کے دبستانوں سے استفادہ کرتے ہوئے عظیم آباد کے سرمایہ زبان و ادب کو جس طرح فیضیاب کیا اُسے دنیائے اردو ادب ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھے گی۔ڈائرکٹر موصوف نے فنکاروں کی پیش کش کے تحت امت سنگھ ایمی اوران کی ٹیم کے ذریعہ شاد عظیم آبادی پرغنائیت اور موسیقیت سے پُر غزل پیش کرنے کیلئے ستائش اور حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے پروگرام میں کچھ رنگا رنگی ، لطف اندوزی اور کشش لانے کی غرض سے کچھ نئی چیزیں پیش کی گئیںتاکہ محبان اور قدر دان اردو لطف اندوز ہو سکیں۔مقالہ خوانی کے تحت اسماعیل حسنین نقوی، سکریٹری شاد عظیم آبادی میموریل کمیٹی، پٹنہ نے شاد ؔکی قومی شاعری پر بڑی جامع گفتگو کی۔ انہوں شاد کی شہرہ آفاق مثنوی مادرِ ہند کے آئینے میں ان کی حب الوطنی، اخوت، بھائی چارہ، قومی یک جہتی کی باتیں کیں۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی نے قومی شاعری پرگہرےنقوش چھوڑے ہیں۔ انہوں نے اپنی جدت پسندانہ شاعری کی انوکھی روایت پیش کی ہے۔ڈاکٹر زر نگار یاسمین اسسٹنٹ پروفیسر مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی ، پٹنہ نے شاد کی رباعیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی نے اپنی ضخیم دیوان اپنی یاد گار چھوڑا ہے، جس میں ان کی شاعری کے مختلف اصناف شامل ہیں ان ہی میں رباعیات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاد کی رباعیوں میں تصوف، فکر و فلسفہ او رانسانی جذبات کا خاص اظہار ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی رباعیات میں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کو پیش کیا ہے۔ڈاکٹر منہاج الدین، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اردو گیا کالج، گیا جی نےشاد عظیم آبادی کے حوالے سےاردو زبان کےآغاز و ارتقا ء پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ شاد عظیم آبادی کے مطابق ارد و خالص ہندستانی زبان ہے جس کی پیدائش اورپرورش و پرداخت ہندستان میں ہی ہوئی ہے۔ ابتدا سے ہی اردو ہندستان کی مقبول ترین زبان رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادؔ کا لسانی شعور نہ صرف پختہ بلکہ نہایت بالیدہ تھا۔ طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت پٹنہ یونیورسٹی کے محمد طلحہ خان ’’ شاد بحیثیت ناول نگار ‘‘اور ثمرین پروین نے ’’شادعظیم آبادی کی غزل گوئی کی انفرادیت‘‘ کے موضوع پرمختصر مگر جامع مقالے پیش کئے۔اس موقع پر شاد عظیم آبادی کے پرپوتے ڈاکٹر سید نثار احمد و انجینئر شکیل احمد کو گلدستہ اور شال پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی گئی۔انہوں نے شادعظیم آبادی پر تقریب منعقد کرنے کے لئے اردو ڈائرکٹوریٹ کی ستائش کی اور شکریہ ادا کیا۔دوسرے اجلاس میں معروف شاعر و چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ،بہار مظفر ابدالی کی صدارت اور معروف افسانہ نگار فخر الدین عارفی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔ ظفر حبیبی ، کاظم رضا ،نیلانشو رنجن اور صدف اقبال نے اپنے کلام سے سامعین کو لطف اندوزکیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم نے’’پچھلے پہر شبِ فرقت ‘‘کے عنوان سے ایک جامع نظم خوبصورت انداز میں پیش کی۔صدر محفل مظفر ابدالی نےاپنی دوراندیشانہ ،فکر انگیز اور بالیدہ شاعری کوخوبصورت لب و لہجہ میںپیش کرکے سامعین کا دل جیت لیا۔تقریب میں محبان اردو سمیت، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد، پروفیسر توقیر عالم، پروفیسر جاوید حیات،خورشید اکبر، مشتاق احمد نوری، شائستہ انجم نوری،پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر ریحان غنی، شائستہ پروین، سید شہباز عالم،عمران صغیر، محمد شعبان، انوار اللہ، اسحاق اثر، اکبر رضا جمشید، سلطان احمد،اسرائیل راعین ، محمد اسید پرسونوی ،محمد ابوبکر،ڈاکٹر قیصر زاہدی، ڈاکٹر ثریا جبیں،اسسٹنٹ پروفیسر عشرت صبوحی،پریم کرن،اسرار عالم سیفی،نصراللہ نستوی، وارث اسلام پوری، عرفان بیلہاروی، منیر سیفی وغیرہ موجود تھے۔یاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دی۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔
0 Response to "حکومت بہاراردو زبان کے فروغ کے تئیںسنجیدہ اور پابند عہد: ایس ایم پرویز عالم"
एक टिप्पणी भेजें