اردو گنگا جمنی تہذیب کی زندہ اورروشن علامت : ڈی ایم

اردو گنگا جمنی تہذیب کی زندہ اورروشن علامت : ڈی ایم


ضلع اردو زبان سیل، کلکٹریٹ بکسر کے زیر اہتمام فروغ اردو سمینار و مشاعرہ کا انعقاد

بکسر (پریس ریلیز)ضلع اردو زبان سیل، کلکٹریٹ بکسر کے زیرِ اہتمام آج نگر بھون، بکسر میں فروغ اردو سیمینار ،مشاعرہ اور اردو عمل گاہ کا انعقاد نہایت شاندار، پُروقار اور علمی و ادبی ماحول میں عمل میں آیا۔ اس پروگرام میں ضلع مجسٹریٹ، بکسر محترمہ ساحلہ ،ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، بکسر محترمہ نیہاریکا چھوی، خصوصی کارگزار افسر جناب وِنیِت کمار، نظارتی ڈپٹی کلکٹر جناب اجے کمار، سینئر ڈپٹی کلکٹر جناب روی بہادر، جناب آلوک نارائن وتس، انچارج افسر، سینئر ڈپٹی کلکٹر، بکسر اور علامہ مختار، ڈپٹی کلکٹر (اسٹیبلشمنٹ)، بکسر سمیت دیگر ضلعی سطح کے افسران شریک ہوئے۔پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ محترمہ نے شمع روشن کرکے کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو گنگاجمنی تہذیب کی ایک زندہ اور روشن علامت ہے اور اس کے فروغ و تحفظ کے لیے ضلع انتظامیہ پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشاعرہ، سیمینار اور ورکشاپ جیسے پروگرام اردو زبان کے عملی نفاذ اور عوامی سطح پر اس کے فروغ کی سمت ایک مؤثر قدم ہے۔نائب ترقیاتی کمشنر محترمہ، جو خود بھی ایک صاحبِ ذوق شاعرہ ہیں، نے اس موقع پر اپنی تخلیق نہایت دلنشیں اور پُراثر انداز میں پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایسی زبان ہے جس سے ہم خود کو الگ نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری روزمرہ کی گفتگو اور تہذیبی رویّوں میں اردو فطری طور پر شامل ہے۔اس موقع پر علامہ مختار، ڈپٹی کلکٹر (اسٹیبلشمنٹ)، بکسر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات نہایت قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردو زبان اسی وقت زندہ اور توانا رہ سکتی ہے جب ہم سب ایمانداری، اخلاص اور مستقل کوشش کے ساتھ اس کی خدمت کریں۔پروگرام میں موجود تمام ضلعی سطح کے افسران نے اردو ورکشاپ، سیمینار اور مشاعرے کی بھرپور ستائش کی اور اسے اردو زبان و ادب کے فروغ کی سمت ایک بامعنی اور مؤثر کوشش قرار دیا۔ مقامی شعراء، ادباء، مقررین اور ادب دوست افراد نے بھی اردو زبان کی ادبی، سماجی اور تہذیبی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام کے کامیاب انعقاد اور بہتر نظم و نسق میں ضلع اردو زبان سیل، بکسر کے عملے کا نمایاں کردار رہا۔ بالخصوص محمد امین اللہ، اردو مترجم، علی حیدری اور سیل کے دیگر ملازمین نے انتظامی و عملی سطح پر بھرپور تعاون کیا۔یہ پروگرام اردو زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ، عوامی بیداری اور گنگاجمنی تہذیب کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک قابلِ قدر اور یادگار قدم ثابت ہوا۔

0 Response to "اردو گنگا جمنی تہذیب کی زندہ اورروشن علامت : ڈی ایم"

एक टिप्पणी भेजें

Ads on article

Advertise in articles 1

advertising articles 2

Advertise under the article