ارشدانجم مانپوری بہار کے ایک منفرد طنز و مزاح نگار تھے :ایسایمپرویز عالم
اردو کے فروغ کے لئے نئی نسل میں ترغیب اور تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے:نوشاد عالم
پٹنہ(پریس ریلیز) انجم مانپوری بہار کے ایک منفرد طنز و مزاح نگار تھے۔طنز و مزاح ادب کی وہ صنف ہے جس کی افادیت کثیرالجہات ہے۔ مغربی ممالک میں تو ادیبوں نے اس سے معاشرے کی اصلاح کے لئے بڑا کام لیا ہے۔ مشرق میں ہمارے جن ادیبوں نے طنز و مزاح کی اہمیت و افادیت پر سنجیدہ نظر ڈالی ہے، اُن میں انجم مانپوری کا نام وقار کے ساتھ لیا جائے گا۔ اُن کی نظر میں طنز و مزاح نہ تو کسی کی عیب جوئی ہے اور نہ ہی تضحیک کا ذریعہ بلکہ وہ اسے سوئے ہوئے انسان یا معاشرے کو جگانے کی مو ¿ثر تدبیر سمجھتے ہیں یا سماج کے جلتے ہوئے زخموں کو ٹھنڈک دینے والا مرہم۔ انجم ایک اعلیٰ پائے کے انشائیہ نگار تھے۔ اپنے انشائیوں میں وہ کبھی ایک مشفق طبیب نظر آتے ہیں اور کبھی ایک ماہر جراح۔ ان کے تخلیق کردہ کردار ہماری زوال آمادہ تہذیب کا آئینہ بھی ہیں اور سماج کے لئے عبرت کا مقام بھی۔ انجم مانپوری محض ایک ذہین انسان ہی نہیں، گہرے مشاہدے اور مطالعے کے مالک بھی تھے۔انجم مانپوری نے اپنے انشائےوں اور طنز و مزاح نگاری کے ذرےعہ اردو ادب میں اعلیٰ قدر نمونہ پےش کےا ہے۔ اس سے اردو ادب مےں بےش قےمت اضافہ ہوا ہے۔ ان کا اےک کردار”مےر کلّو“ تو اردو ادب مےں ضرب المثل بن چکا ہے۔ ان کے انشائےوں کی اہمےت اور مقبولےت کے پےش نظر ”نو رتن“ کے نام سے ان کی کتاب ”طنزےات مانپوری“ کا ہندی ترجمہ بھی شائع کےا گےا جسے بڑی شہرت اور مقبولےت حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ انجم مانپوری اےک اعلیٰ درجے کے صحافی بھی تھے۔ انہوں نے صحافت کے مےدان مےں بھی اپنے جوہر دکھائے اور اس کے توسط سے ملک کی آزادی مےں حصہ لےا۔ اس ماےہ ناز قلم کار نے اپنی نادر و بےش قےمت طنز و مزاح نگاری اور صحافتی خدمات سے اردو دنےا مےں بہار کانام روشن کےا۔یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون،نز دآکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد انجم مانپوری یادگاری تقریب و بزم سخن میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسراعجاز علی ارشد، سابق شیخ الجامعہ ، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ نے کی اور بزم سخن کی صدارت مشہور و معروف شاعر اشرف یعقوبی ،نالندہ نے کی ۔مہمان اعزازی کی حیثیت سے نوشاد عالم ، صدر نشیں اردو مشاورتی کمیٹی ، بہار، پٹنہ شریک محفل ہوئے۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کہا کہ یادگاری تقریبات کے انعقادکے ذریعہ اپنے بزرگوںکو یاد کرتے ہیں ، انہیں خراج عقیدت پیش کرتے اور نئی نسل کو ان کی ادبی خدمات سے متعارف کراتے ہیں اور ان کی ادبی اثاثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طنز و ظرافت ایک مشکل کام ہے۔ ایک خاص پسِ منظر میں طنز و ظرافت کے اشعار ابھرتے ہیں ۔ اگر آپ اُس سے واقف نہیں ہےں تو آپ ان اشعار سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے ہیں۔ جو ظریفانہ اشعار ہوتے ہیں وہ سماج کی نا ہمواریوں سے نکلتے ہیں ۔اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کا والہانہ استقبال کیا اور شہر کے مختلف گوشے سے وقت نکال کر تقریب میںتشریف لانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات معاشرے میں علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے ادبا و شعرا او ردانشوران اردو کو ایک خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اردو مسودہ اشاعتی امداد منصوبہ کے تحت دو سال کے لئے دورکنی انتخاب کمیٹی کی تشکیل کردی ہے۔ اس سلسلے میں اشتہار اور مجوزہ فارم بھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔خواہش مند افراد اپنے مسودے کی دو کاپیاں 10 فروری2026 تک اردو ڈائرکٹوریٹ کے دفتر میں جمع کردیں۔تاکہ منتخب کئے گئے مسودوں کو اسی مالی سال میں امدادی رقم دی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ 22یادگاری تقریبات میںاب تک15 یادگاری تقریبات کا انعقاد کرایا جا چکا ہے اور باقی 7یادگاری تقریبات انشاءاللہ اس مالی سال میں 15مارچ سے قبل تک منعقد کرالئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیکھر سماّن، موسوم انعامات اور جشن اردو کے انعقاد کے لئے بھی ہماری کوششیں جاری ہیں۔تقریب کے مہمانِ اعزازی نوشاد عالم، صدر نشیں، اردو مشاورتی کمیٹی، بہار،پٹنہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ لگاتاریادگاری تقریبات کا انعقاداور اردو زبان کے شائقین اور محبان کواکٹھا کرکے اردوکے فروغ کے لئے بڑا کام کر رہا ہے۔جیسے اردو تربیتی آموزی پروگرام، یادگاری تقریبات، ضلع سطح پر فروغ اردو کے پروگرام، ضلع اردو نامہ کی اشاعت ،بھاشا سنگم کی اشاعت کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ عوامی سطح پر شعرا و ادبا اور محبان اردوکے ذریعہ اردو کے فروغ اور اس کے فلاح کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔حکومت بہار چاہتی ہے کہ ہر ضلع میں اردو کے فروغ کے لئے کام کئے جائیں۔آپ لوگوں کی کوششوں سے دیہی علاقوں میں اردو کے فروغ کے لئے کام کرنے، ان میں ترغیب اور تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہر گھر میں اردوکا ماحول بنایا جائیں۔ ڈاکٹر احسان عالم ، پرنسپل الحرا پبلک اسکول، دربھنگہ نے انجم مانپوری کی انشائیہ نگاری پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انجم مانپوری کی علمی و ادبی خدمات اردو ادب کی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ بہت دنوں تک اردو طنز و مزاح کی تاریخ لکھنے والوں نے انہیں نظر انداز کیا۔ ان کا تخلیقی کردار ”میر کلو“سماج، سیاست اور معاشرے کے گندگیوں پر بے مثال طنز ہے۔ ڈاکٹر یاسمین اختر، اسسٹنٹ پروفیسر سی ایم جے کالج، مدھوبنی نے انجم مانپوری : شخصیت اور شاعری کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انجم مانپوری ایک معتبر اور مقتدر قلم کارتھے۔ وہ طنز و مزاح کے شہنشا ہ تھے۔ ان کی تحریروں میں ان کے دور کے معاشرتی حالات وو اقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان کی شاعری میں طنزو مزاح ہی نہیں حسن کی گلکاری بھی ہے۔ ان کی خلاقانہ صلاحیت ان کی تحریروں سے اجاگر ہے۔ طلبا و طالبات کی پیش کش کے تحت احمد رضا انصاری (ایم اے اردو) اور نور عالم،ریسرچ اسکالر ،ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ نے انجم مانپوری پر اپنی کاوشیں پیش کیں۔یادگاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے کی۔دوسری نشست بزم سخن کے تحت قسیم سہسرامی،سہسرام،عفیف سراج،پٹنہ، اشراق حمزہ پوری،گیا،ڈاکٹر مظہر زاہدی،پٹنہ، شاہد نظامی،گیا، وسیم اورنگ آبادی،پٹنہ، وارث اسلام پوری،نالندہ، پرویز اشرف،سیوان، محترمہ ارادھنا پرساد،پٹنہ نے اپنے خوبصورت اور معیاری کلام پیش کئے اور سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کئے۔تقریب میں محبان اردو ، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر توقیر عالم، اکبررضا جمشید، فخرالدین عارفی،ڈاکٹر آصف سلیم، ڈاکٹر زر نگار یاسمین، منیرسیفی،ظفر صدیقی، نسیم احمد، نرملا سنگھ، شمیم الدین، عرفان بیلہاروی، ماسٹر محمد اسید پرسونوی، اثر فریدی،مصلح الدین کاظم،نصراللہ نستوی، سلطان آزاد، میکائیل قاسمی،پرویز عالم، میر سجادوغیرہ موجود تھے۔ بزم سخن کی نظامت معروف شاعر، رہبر گیاوی نے بحسن خوبی انجام دئےے۔ محمدہاشم کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔
0 Response to " ارشدانجم مانپوری بہار کے ایک منفرد طنز و مزاح نگار تھے :ایسایمپرویز عالم"
एक टिप्पणी भेजें