کلیم عاجز جیسی عبقری شخصیت برسوں بعد پیدا ہوتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم
عظیم المرتبت شاعرکلیم عاجزدبستان بہار کی آبرو تھے: ایس ایم پرویز عالم
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت کلیم عاجز یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز) کلیم احمد عاجزؔ انتہائی وضعدار اور تہہ دار شخصیت کے مالک تھے۔نئے لب و لہجہ کے بلند پایہ شاعر ، بہترین نثر نگار، کامیاب مدرس کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کا دینی ، دعوتی اور تبلیغی پہلو بھی نہایت ہی روشن اورتابناک رہا۔ انسانیت ،شرافت، وضعداری کی منہ بولتی تصویر ، ملت کے غم خوار، دبستان عظیم آباد کے گوہرِ آبدار اور اقلیم سخنِ کے تاجدار پدم شری ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ کا دل نورِ ایمانی اور جوشِ ایمانی کی حرارت سے منور تھا۔ آپ کی سحر خیزی اور نالۂ نیم شبی کا کرشمہ تھا کہ غموں کے اتھاہ سمندر میں بھی آپ کے چہرے پر کبھی شکن تک نہیں آئی۔ پژمردگی نہیں آئی، ہمیشہ ہشاش بشاش اور مسکراتے رہے۔ دل ہے لہو لہان مگر جبیں پر شکن نہیں۔ یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، نزد آکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد کلیم عاجزیادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر ارتضیٰ کریم ،سابق صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی نےکی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کلیم عاجز جیسے شاعر برسوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری آفاقی ہے۔انہوں نے کہا کہ میر اور کلیم عاجز کا تقابلی جائزہ یا موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں کا اپنا الگ انداز اپنا ،اسلوب اور اپنالہجہ تھا۔ میرؔ بکھرائو اور کلیم عاجز ٹکرائو کا شاعر ہے۔کلیم عاجز کو جوشہرت و مقبولیت اورمحبوبیت ملی وہ کسی اور کو شاعر کے حصے میں نہیں آئی۔انہوں نے میراور کلیم عاجزمیں مماثلت کے حوالے سے ان کے اشعارکے ذریعہ وضاحت پیش کی اور کہا کہ دونوں کی حیثیت اور مقام و مرتبہ الگ ہے۔ انہو ںنے کہا کہ شاعری نوعیت کی ترجمان نہیں ہوتی بلکہ صورت کی ترجمان ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز صرف شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثر نگار تھے۔ ان کو ڈرامے اور تھیٹر سے بھی دلچسپی تھی۔ اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کاوالہانہ استقبال کیا۔اور شہر کے مختلف گوشےسے وقت نکال کر تقریب میںتشریف لانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ تقریب کلیم عاجز کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد کسی عظیم اور باوقار شخصیت کی زندگی، ادبی خدمات اور کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ اس نوعیت کی تقریبات کے ذریعہ ہم نہ صرف مرحوم ادیبوں، شاعروں، محققوں اور ناقدوں کی علمی ،ادبی، سماجی اور قومی خدمات کو یاد کرتے ہیںبلکہ اُن کے افکار و نظریات کو بھی زندہ رکھتے ہیں تاکہ نئی نسل اُن سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ایسی تقریبات معاشرے میں علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔نئی نسل اپنے اکابرین کی علمی خدمات اور اُن کے ادبی اثاثے سے واقف ہوتی ہیں۔ کلیم عاجز کا نام بر صغیر کی اردو شاعری کا ایک مقتدر، معروف اور مقبول نام ہے، جسے دبستان بہار کی آبرو سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی بے مثل اور خوبصورت شاعری کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنی شاعرانہ برتری اور عظمت کا لوہا منوا لیا۔ ان کی شاعری میں احساس کی شدت، فکر کی نُدرت اور پیش کش کی جو دل پذیری ہے ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی شاعری جدید فکر و نظر کی حامل کلاسیکی شاعری کا بہترین نمونہ ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے مزید کہا کہ کلیم عاجز ایک منفرد اور امتیازی شان کے حامل بلند پایہ نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی نثر میں بَلا کی دلکشی، بے پایاں شدتِ احساس اور غضب کی اثر پذیری ملتی ہے۔ ان میں قدروں کے زوال کی داستان اور ان کی با زیافت کی تڑپ ہے۔کلیم عاجز نے اپنی دلکش شاعری اور بے مثل نثر نگاری سے دنیائے شعروادب میں جیسی قدر و منزلت، شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف ’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘جس میں نثر نگاری اور شاعری دونوں کے دل پذیر نمونے ملتے ہیں۔کلیم عاجز ملک اور بیرون ملک میں مشاعروں کی شان تھے۔ کوئی بھی بڑا مشاعرہ ان کی شمولیت کے بغیر نا مکمل تصور کیا جاتا تھا۔ انھوں نے اعلیٰ شاعری اور لا زوال نثری تخلیقات سے اردو ادب کو مالا مال کر دیا اور عالمی سطح پر شہرت و مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ریاست بہار کو ایک اعلیٰ پہچان عطا کی، جس پر اہالیان بہار کو بجا طور پر ناز ہے۔پروفیسر قاسم فریدی ، سابق صدر شعبہ اردو ، سچیدانند کالج، اورنگ آباد نے کلیم عاجز کی شاعری کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کلیم عاجز کی شاعری لب و لہجہ اور اسلوب کی ستائش کی۔ انہو ںنے کہا کہ کلیم عاجز ان خوش نصیب شعرا میںہیں جن کی آواز ترنم سےپُر تھی۔کلیم عاجز کی آواز میںتصنع اور بناوٹ نہیں تھی۔ ان کا ترنم اندر کے درد کو محسوس کراتا تھا۔ان کےکلام کے ساتھ ان کے ترنم سے محظوظ ہونے کے لئےان کے شیدائی سبھی محفل میں شریک ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ان کی غزلیںصرف ماضی کی بازگشت نہیں ، بلکہ حال کی آواز اور آئینہ ہیں۔وہ فنی شعور سے پوری طرح آگاہ تھے۔ان کی شاعری ذاتی تجربات کی ترجمان نہیں بلکہ سماجی حالات کی عکاس بھی ہے۔ان کی شاعری وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ ان کا شماراردو غزل کے ان معدود چندشاعر وں میں ہوتا ہے جنہوں کلاسیکی لفظیات، استعارات اور علامات کواپنی شاعری میں استعمال کیا۔پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، اردو شعبہ، پٹنہ یونیورسٹی نے میر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شعرا ایسے تھے جو بہار میںشاعری کی آبروتھےاور دبستان عظیم آباد میں منفردشناخت رکھتے تھے۔ ان میں کلیم عاجز کا نام سر فہرست ہے۔کلیم عاجز کی شاعری میںعشق و محبت کا پیغام ملتا ہے ۔جدید شاعری میں بہار کے تین عظیم شعرا جمیل مظہری، کلیم عاجز اور سلطان اخترکا نام احترام اور قدر سے لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ ان میں کلیم عاجز کو منفرد مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے طرز خاص، منفرد لب ولہجہ اور مختلف رنگ و آہنگ کے سبب اپنی انفرادیت تسلیم کرائی ہے۔انہیں میر ثانی بھی کہا گیا۔جناب شہاب ظفر نے کلیم عاجز کی میر سے مماثلت اوران کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز کی شاعری اور زندگی میں میر کا اثر او رمیر سے مشابہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز غموں سےلڑتے ہیں، زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیتے ہیں۔کلیم عاجز کے یہاں نا امیدی، مایوسی اور یاسیت و قنوطیت نہیں ہے۔ان کی شاعری کا شعر و ادب کی دنیا کا ہر شخص معترف و معتقد ہے۔ پروفیسر قسیم اختر،صدر شعبہ اردو مارواڑی کالج، کشن گنج نے کلیم عاجز کی شاعری انفراد وامتیازکے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز داخلی و خارجی روایتی جھگڑوں سے الگ ہو کر خوبصورت شاعری کی ہے۔ انہوں نے شاعری کو بے پناہ خوبصورت اور شاندار اسلوب عطا کیا ہے۔کلیم عاجز میں وہ ساری خوبیاں ہیں جو ایک اچھے شاعر میں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میر کا لحن ان کی غزلوں کا پیرہن تھا۔وہ درد و غم کے سمندر میں ڈوب کر بھی نابود نہ ہوئے۔کلیم عاجز اپنے احساسات و جذبات اور تجربات کو بڑے خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ان کی شاعری میں سوز و گداز ، تازگی ، شگفتگی اور دلکشی ہے۔ ان کی شاعری میں زبان و بیان کی سحر کاری اور روایت کی پاسدار ی ہے۔طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت پاٹلی پترا یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر حذیفہ شکیل نے کلیم عاجز کی نثری نگار خانہ پر اور ایمن سبحان نے کلیم عاجز کی حیات اور شاعری پر مختصر مگر جامع مقالے پیش کئے۔اس موقع پر کلیم عاجز کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر وسیم احمدکوپھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی گئی۔ڈاکٹر وسیم صاحب نے بڑے ہی جامع انداز میں اپنے والد محترم کے بارے میں اظہار خیال بھی کیا۔دوسرے اجلاس میں مشہور شاعر و ادب ،انور آفاقی (دربھنگہ )کی صدارت اور اثر فریدی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔منیر سیفی، شبیر حسن شبیر، ظفر صدیقی، نیاز نذر فاطمی، میر سجاد، شبانہ عشرت، رخشاں ہاشمی نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کی دلکش شاعری سے بھی سامعین لطف اندوز ہوئے۔۔تقریب میں محبان اردو ، طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر جاوید حیات، اسسٹنٹ پروفیسر زر نگار یاسمین، وارث اسلام پور، اسرار عالم سیفی، پرویز عالم، ڈاکٹر شمع ناسمین ، رہبر گیاوی، ڈاکٹر نصر اللہ نصر نستوی،وغیرہ موجود تھےیاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دیا۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔
اردو ڈائرکٹوریٹ کے تحت کلیم عاجز یادگاری تقریب و بزم سخن میں دانشورانِ اردو کا اظہار خیال
پٹنہ(پریس ریلیز) کلیم احمد عاجزؔ انتہائی وضعدار اور تہہ دار شخصیت کے مالک تھے۔نئے لب و لہجہ کے بلند پایہ شاعر ، بہترین نثر نگار، کامیاب مدرس کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کا دینی ، دعوتی اور تبلیغی پہلو بھی نہایت ہی روشن اورتابناک رہا۔ انسانیت ،شرافت، وضعداری کی منہ بولتی تصویر ، ملت کے غم خوار، دبستان عظیم آباد کے گوہرِ آبدار اور اقلیم سخنِ کے تاجدار پدم شری ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ کا دل نورِ ایمانی اور جوشِ ایمانی کی حرارت سے منور تھا۔ آپ کی سحر خیزی اور نالۂ نیم شبی کا کرشمہ تھا کہ غموں کے اتھاہ سمندر میں بھی آپ کے چہرے پر کبھی شکن تک نہیں آئی۔ پژمردگی نہیں آئی، ہمیشہ ہشاش بشاش اور مسکراتے رہے۔ دل ہے لہو لہان مگر جبیں پر شکن نہیں۔ یہ خیالات اور تاثرات تھے اردو کے ممتاز دانشوران کا جنہوں نے اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، بہار پٹنہ کے زیر اہتمام آڈیٹوریم، فنیشور ناتھ رینو ہندی بھون، نزد آکاش وانی، چھجو باغ،پٹنہ میں منعقد کلیم عاجزیادگاری تقریب و بزم سخن پروگرام میں پیش کئے۔ پروگرام کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔تقریب کی صدارت پروفیسر ارتضیٰ کریم ،سابق صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی نےکی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کلیم عاجز جیسے شاعر برسوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری آفاقی ہے۔انہوں نے کہا کہ میر اور کلیم عاجز کا تقابلی جائزہ یا موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں کا اپنا الگ انداز اپنا ،اسلوب اور اپنالہجہ تھا۔ میرؔ بکھرائو اور کلیم عاجز ٹکرائو کا شاعر ہے۔کلیم عاجز کو جوشہرت و مقبولیت اورمحبوبیت ملی وہ کسی اور کو شاعر کے حصے میں نہیں آئی۔انہوں نے میراور کلیم عاجزمیں مماثلت کے حوالے سے ان کے اشعارکے ذریعہ وضاحت پیش کی اور کہا کہ دونوں کی حیثیت اور مقام و مرتبہ الگ ہے۔ انہو ںنے کہا کہ شاعری نوعیت کی ترجمان نہیں ہوتی بلکہ صورت کی ترجمان ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز صرف شاعر ہی نہیں بلکہ بہترین نثر نگار تھے۔ ان کو ڈرامے اور تھیٹر سے بھی دلچسپی تھی۔ اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ایس ایم پرویز عالم ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹور یٹ نے تمام مہمانان ومحبان اردو کاوالہانہ استقبال کیا۔اور شہر کے مختلف گوشےسے وقت نکال کر تقریب میںتشریف لانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے پروگرام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ تقریب کلیم عاجز کی خدماتِ زبان و ادب کے اعتراف اور ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔یادگاری تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد کسی عظیم اور باوقار شخصیت کی زندگی، ادبی خدمات اور کارناموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے بتایا کہ اس نوعیت کی تقریبات کے ذریعہ ہم نہ صرف مرحوم ادیبوں، شاعروں، محققوں اور ناقدوں کی علمی ،ادبی، سماجی اور قومی خدمات کو یاد کرتے ہیںبلکہ اُن کے افکار و نظریات کو بھی زندہ رکھتے ہیں تاکہ نئی نسل اُن سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ایسی تقریبات معاشرے میں علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی اقدار کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔نئی نسل اپنے اکابرین کی علمی خدمات اور اُن کے ادبی اثاثے سے واقف ہوتی ہیں۔ کلیم عاجز کا نام بر صغیر کی اردو شاعری کا ایک مقتدر، معروف اور مقبول نام ہے، جسے دبستان بہار کی آبرو سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی بے مثل اور خوبصورت شاعری کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنی شاعرانہ برتری اور عظمت کا لوہا منوا لیا۔ ان کی شاعری میں احساس کی شدت، فکر کی نُدرت اور پیش کش کی جو دل پذیری ہے ، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی شاعری جدید فکر و نظر کی حامل کلاسیکی شاعری کا بہترین نمونہ ہے۔ڈائرکٹر موصوف نے مزید کہا کہ کلیم عاجز ایک منفرد اور امتیازی شان کے حامل بلند پایہ نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی نثر میں بَلا کی دلکشی، بے پایاں شدتِ احساس اور غضب کی اثر پذیری ملتی ہے۔ ان میں قدروں کے زوال کی داستان اور ان کی با زیافت کی تڑپ ہے۔کلیم عاجز نے اپنی دلکش شاعری اور بے مثل نثر نگاری سے دنیائے شعروادب میں جیسی قدر و منزلت، شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ ان کی مایہ ناز تصنیف ’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘جس میں نثر نگاری اور شاعری دونوں کے دل پذیر نمونے ملتے ہیں۔کلیم عاجز ملک اور بیرون ملک میں مشاعروں کی شان تھے۔ کوئی بھی بڑا مشاعرہ ان کی شمولیت کے بغیر نا مکمل تصور کیا جاتا تھا۔ انھوں نے اعلیٰ شاعری اور لا زوال نثری تخلیقات سے اردو ادب کو مالا مال کر دیا اور عالمی سطح پر شہرت و مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ ریاست بہار کو ایک اعلیٰ پہچان عطا کی، جس پر اہالیان بہار کو بجا طور پر ناز ہے۔پروفیسر قاسم فریدی ، سابق صدر شعبہ اردو ، سچیدانند کالج، اورنگ آباد نے کلیم عاجز کی شاعری کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کلیم عاجز کی شاعری لب و لہجہ اور اسلوب کی ستائش کی۔ انہو ںنے کہا کہ کلیم عاجز ان خوش نصیب شعرا میںہیں جن کی آواز ترنم سےپُر تھی۔کلیم عاجز کی آواز میںتصنع اور بناوٹ نہیں تھی۔ ان کا ترنم اندر کے درد کو محسوس کراتا تھا۔ان کےکلام کے ساتھ ان کے ترنم سے محظوظ ہونے کے لئےان کے شیدائی سبھی محفل میں شریک ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ان کی غزلیںصرف ماضی کی بازگشت نہیں ، بلکہ حال کی آواز اور آئینہ ہیں۔وہ فنی شعور سے پوری طرح آگاہ تھے۔ان کی شاعری ذاتی تجربات کی ترجمان نہیں بلکہ سماجی حالات کی عکاس بھی ہے۔ان کی شاعری وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ ان کا شماراردو غزل کے ان معدود چندشاعر وں میں ہوتا ہے جنہوں کلاسیکی لفظیات، استعارات اور علامات کواپنی شاعری میں استعمال کیا۔پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، اردو شعبہ، پٹنہ یونیورسٹی نے میر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شعرا ایسے تھے جو بہار میںشاعری کی آبروتھےاور دبستان عظیم آباد میں منفردشناخت رکھتے تھے۔ ان میں کلیم عاجز کا نام سر فہرست ہے۔کلیم عاجز کی شاعری میںعشق و محبت کا پیغام ملتا ہے ۔جدید شاعری میں بہار کے تین عظیم شعرا جمیل مظہری، کلیم عاجز اور سلطان اخترکا نام احترام اور قدر سے لیا جاتا ہے۔ حالاں کہ ان میں کلیم عاجز کو منفرد مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے طرز خاص، منفرد لب ولہجہ اور مختلف رنگ و آہنگ کے سبب اپنی انفرادیت تسلیم کرائی ہے۔انہیں میر ثانی بھی کہا گیا۔جناب شہاب ظفر نے کلیم عاجز کی میر سے مماثلت اوران کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز کی شاعری اور زندگی میں میر کا اثر او رمیر سے مشابہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز غموں سےلڑتے ہیں، زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیتے ہیں۔کلیم عاجز کے یہاں نا امیدی، مایوسی اور یاسیت و قنوطیت نہیں ہے۔ان کی شاعری کا شعر و ادب کی دنیا کا ہر شخص معترف و معتقد ہے۔ پروفیسر قسیم اختر،صدر شعبہ اردو مارواڑی کالج، کشن گنج نے کلیم عاجز کی شاعری انفراد وامتیازکے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ کلیم عاجز داخلی و خارجی روایتی جھگڑوں سے الگ ہو کر خوبصورت شاعری کی ہے۔ انہوں نے شاعری کو بے پناہ خوبصورت اور شاندار اسلوب عطا کیا ہے۔کلیم عاجز میں وہ ساری خوبیاں ہیں جو ایک اچھے شاعر میں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میر کا لحن ان کی غزلوں کا پیرہن تھا۔وہ درد و غم کے سمندر میں ڈوب کر بھی نابود نہ ہوئے۔کلیم عاجز اپنے احساسات و جذبات اور تجربات کو بڑے خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ان کی شاعری میں سوز و گداز ، تازگی ، شگفتگی اور دلکشی ہے۔ ان کی شاعری میں زبان و بیان کی سحر کاری اور روایت کی پاسدار ی ہے۔طلبا وطالبات کی پیش کش کے تحت پاٹلی پترا یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر حذیفہ شکیل نے کلیم عاجز کی نثری نگار خانہ پر اور ایمن سبحان نے کلیم عاجز کی حیات اور شاعری پر مختصر مگر جامع مقالے پیش کئے۔اس موقع پر کلیم عاجز کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر وسیم احمدکوپھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی گئی۔ڈاکٹر وسیم صاحب نے بڑے ہی جامع انداز میں اپنے والد محترم کے بارے میں اظہار خیال بھی کیا۔دوسرے اجلاس میں مشہور شاعر و ادب ،انور آفاقی (دربھنگہ )کی صدارت اور اثر فریدی کی نظامت میں محفل سخن کا انعقاد ہوا ۔منیر سیفی، شبیر حسن شبیر، ظفر صدیقی، نیاز نذر فاطمی، میر سجاد، شبانہ عشرت، رخشاں ہاشمی نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر ڈائرکٹر ایس ایم پرویز عالم کی دلکش شاعری سے بھی سامعین لطف اندوز ہوئے۔۔تقریب میں محبان اردو ، طلبا و طالبات سمیت متعدد اہم شخصیات میں پروفیسر اعجاز علی ارشد،پروفیسر جاوید حیات، اسسٹنٹ پروفیسر زر نگار یاسمین، وارث اسلام پور، اسرار عالم سیفی، پرویز عالم، ڈاکٹر شمع ناسمین ، رہبر گیاوی، ڈاکٹر نصر اللہ نصر نستوی،وغیرہ موجود تھےیاد گاری تقریب کی نظامت محمد ہاشم نے بحسن و خوبی انجام دیا۔افریدہ حبیب کے تشکراتی کلمات پر تقریب کا اختتام ہوا۔
0 Response to "کلیم عاجز جیسی عبقری شخصیت برسوں بعد پیدا ہوتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم"
एक टिप्पणी भेजें